ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کے بھی سروے کا حکم؛ مسلم دانشوروں اور تنظیموں کو تشویش

متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کے بھی سروے کا حکم؛ مسلم دانشوروں اور تنظیموں کو تشویش

Fri, 15 Dec 2023 16:39:20    S.O. News Service

متھرا15 ڈسمبر (ایس او نیوز/ ایجنسی) متھرا میں واقع شاہی عیدگاہ مسجد معاملے میں بھی مسلم فریق کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب الہ آباد ہائی کورٹ نے مخالف فریق کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے عیدگاہ احاطے کے سروے کاحکم دیا جس کو لے کر مسلم دانشوروں اور تنظیموں کو تشویش لاحق ہوگئی ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ نے متھرا میں شری کرشن جنم بھومی مندر سے متصل شاہی عیدگاہ کمپلیکس کے سروے کے لئے عدالت کی نگرانی میں ایک کورٹ کمشنر کی تقرری کے مطالبے کو قبول کر لیا ہے، جس کےلئے مخالف فریق نے وارانسی کے گیان واپی کمپلیکس کی طرز پر متھرا میں سروے کرانےکے لئےعرضی داخل کی تھی۔ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے یہ فیصلہ دیاہے۔ معاملے کی اگلی سماعت ۱۸؍ دسمبر کوہوگی اور یہ فیصلہ کیا جائےگا کہ سروے کا خاکہ کیا ہوگا۔

الہ آبادہائی کورٹ نےمسلم فریق یعنی یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے ان دلائل کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندو فریق کی درخواست قابل سماعت ہی نہیں ہے۔

الہ آبادہائی کورٹ کے جسٹس مینک کمار نے اس سے قبل ۱۶؍ نومبر ۲۰۲۳ء کو متعلقہ فریقوں کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اس دن متنازع احاطے سے متعلق ۱۸؍ میں سے ۱۷؍ درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ ان تمام درخواستوں کو سماعت کے لئے متھرا ڈسٹرکٹ کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ شری کرشن وراجمان اور۷؍دیگر فریقوں نے ایڈوکیٹ ہری شنکر جین، ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین، پربھاس پانڈے اور دیوکی نندن کے ذریعے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، جس میں شری کرشن جنم بھومی سے متصل شاہی عیدگاہ کمپلیکس کا اے ایس آئی سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ شاہی عیدگاہ کے مقام پر اس سےپہلے، شری کرشن جنم بھومی مندر تھا،جسے مغل حکمراں اورنگزیب کے دور میں مسمار کر کے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
 ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہندو فریق کے وکیل ہری شنکر جین نے عدالت کے حکم کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ان کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ احاطے میں ایک کمل کی شکل کا ستون ہے جو ہندو مندروں کی خصوصیت ہے اور ہندو مذہبی نشانات ہیں اور نقش و نگارہیں جو واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ شاہی عیدگاہ مسجد اور یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کے وکیل نے عدالت میں اعتراض درج کرایا تھا۔ مسلم فریقوں نے کہا کہ یہ عرضی قابل سماعت نہیں ہے اور اسے خارج کر دینا چا ہئے جسے عدالت نے قبول نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب کورٹ کمشنر کی نگرانی میں شاہی عیدگاہ مسجدکی۱۳ء۳۷؍ ایکڑ اراضی کا سروے کیا جا سکتا ہے۔ یہ سروے مئی۲۰۲۱ء میں گیان واپی مسجد، وارانسی کے سروے جیسا ہوگا۔ اس میں کورٹ کمشنر کی ٹیم وہاں جائے گی اور ثبوت اکٹھا کرے گی ۔

غورطلب ہے کہ شاہی عیدگاہ معاملے میں ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۶۸ء کو ایک معاہدہ طے پایاتھا۔ شری کرشنا جنم بھومی سیوا سنگھ اور شاہی عیدگاہ کمیٹی کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں ۱۳ء۳۷؍ ایکڑ زمین میں سے تقریباً ۲ء۳۷؍ایکڑ زمین شاہی عیدگاہ کے لئے دی گئی تھی۔تاہم ،معاہدے کے بعد شری کرشن جنم بھومی سیوا سنگھ کو تحلیل کر دیا گیا تھا۔ ہندو فریق اب اس معاہدے کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ شری کرشن جنم بھومی سیوا سنگھ کو مذکورہ معاملہ میں مذاکرات و مفاہمت کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ منظورکئے گئے پلیسز آف ورشپ ایکٹ بل کے مطابق متھرا واقع مذکورہ مسجد احاطہ کے مالکانہ حقوق پر سوال نہیں اٹھایا جانا چاہئے کیونکہ یہ قانون صاف طور پر کہتا ہے کہ آزادی کے وقت جس عبادتگاہ کی مالکانہ حیثیت جو بھی تھی اسے برقرار رکھا جانا چاہئے۔ صرف ایودھیا واقع بابری مسجد کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ مسلم فریق بار بار اس ایکٹ کی دلیل عدالتوں میں دیتے رہے ہیں مگرکورٹ میں اسے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور ایودھیا کے فیصلہ کے بعد تو دیگر تاریخی مساجد کیخلاف مسلسل طومار باندھا جارہا ہے۔

مسلم دانشوروں اور تنظیموں کو تشویش: متھرا واقع شاہی عیدگاہ مسجد معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ سروے کے حکم سے مسلم حلقہ میں مایوسی اور بے چینی ہے۔ البتہ معروف عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اہم رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے مذکورہ معاملہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متھرا عیدگاہ سیکڑوں ہزاروں سال پرانی عبادت گاہ ہے اور کوئی بھی مسلم عبادتگاہ کسی زمین پرقبضہ کرکے نہیں بنائی جا سکتی اور نہ ہی قبضے کی زمین پر عبادت قبول ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو’پلیسیز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء کے تناظر میں سنا جانا چاہئے تھا اوراس ایکٹ کونافذالعمل سمجھا جانا چاہئےتھا ۔ انہوں نے کہا کہ باربار اس طرح کے مسائل کا سامنے آنا باعث تشویش اور بحث طلب ہے، حالانکہ،ابھی سپریم کورٹ کا دروازہ کھلا ہے۔

اتر پردیش کانگریس اقلیتی سیل کے چیئرمین شاہنواز عالم نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو ’پلیسزآف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء‘ کی خلاف ورزی قرار دیا ۔انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد۔رام جنم بھومی کیس میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ’ پلیسزآف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء ہمارے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہےاور آئین کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر پہلے وارانسی کی گیان واپی ، پھر بدایوں کی جامع مسجد اور اب متھرا کی شاہی عیدگاہ کے کردار کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور سپریم کورٹ اس پر خاموش ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ غیر آئینی طریقے استعمال کئےجا رہے ہیں اورآئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے لئے راستہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر کو اس حقیقت سے الگ تھلگ نہیں دیکھا جا سکتا کہ بی جے پی کے دو ممبران پارلیمنٹ راجیہ سبھا میں ایک پرائیویٹ بل پیش کرچکے ہیں جس میں آئین کے دیباچے کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ڈپٹی اسپیکر جگدیپ دھنکڑ بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی بات کر چکےہیں۔

شاہنواز عالم کے مطابق، یہ محض اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ سب عدلیہ پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی مثالیں ہیں جو ملک کو آمریت کی طرف لے جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں شری کرشن سیوا سنگھ نے۱۹۶۸ء میں ہی مسلم فریق کے ساتھ معاہدہ کرکے فیصلہ کیا تھا کہ مذکورہ زمین پر مندر اور مسجد دونوں ہی رہیں گی۔ اس فیصلے کی وجہ سے اب تک امن قائم ہے۔تاہم اب اگر عدالت کی مدد سے یہ امن خراب ہوتا ہے تو اس سے زیادہ افسوسناک اور کوئی بات نہیں ہوسکتی۔   


Share: